تاریخ عالم

مغلیہ دورمیں برصغیرکی ترقی اور غیر مسلم مورخین

مغربی مورخ ابراہام ایرالے کے مطابق مغل سلطنت برصغیر کا آخری سنہری دور تھی۔ جس کے بعد انگریزوں کی لوٹ مار کی وجہ سے اس کے تاریک دور کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے۔ مغربی مورخ ڈوگسن کے مطابق یہ سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ایشیا کی دو بڑی مسلم گن پاؤڈر سلطنتوں میں شامل تھی جو جنگوں میں بارود، گنوں، توپوں اور بندوقوں کی جدید جنگی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی تھی۔ مغل بادشاہ شاہ جہان کا دور برصغیر کے لیے تعمیرات کا سنہرا دور تھا جس میں برصغیر میں تاج محل، لال قلعہ، موتی مسجد، قلعہ لاہور اور جامع مسجد دہلی جیسی مشہور عالم عمارات تعمیر کی گئیں جنہوں نے آج تک دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔
مغل دور میں برصغیر نے ایک مضبوط اور مستحکم معیشت حاصل کی جس سے تجارتی اور معاشی ترقی میں اضافہ ہوا۔مغربی مورخ کلاز کے مطابق اورنگزیب کے دور میں برصغیر نے ایک بار پھر سیاسی استحکام حاصل کیا۔ اورنگزیب پہ مذہبی شدت پسند کا الزام عائد کیا جاتا ہے جب کہ خود مغربی مورخ کلاز کے مطابق اس نے ہندو مسلم سب سے برابری کا برتاؤ کیا اور صرف ان لوگوں کو قتل کرایا جو ہندو یا مسلم باغی تھے۔ اس نے خود ایک ہندو راجپوت شہزادی نواب بائی سے شادی کی۔ یہ سلطنت مسلم ہندو دونوں کے نزدیک محترم تھی اور غیر مسلم مورخ سوگاتا بوس کے مطابق یہاں تک کہ اس کے زوال کے زمانے میں جب مختلف حصے خود مختار ہوگئے خود ہندو جٹ، مرہٹہ، راجپوت،سکھ مغل بادشاہ کی تخت نشینی کی تقریب میں شریک ہوتے اور اسے برصغیر کا شہنشاہ تسلیم کرتے۔ یہ بات ان غیر مسلم مورخین کے الزامات کی تردید کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ مغل سلطنت ایک غاصب سلطنت تھی جس سے ہندو ناخوش تھے اور انہوں نے اس کے زوال پہ خوشی منائی۔
غیر مسلم مورخ جیفری جی ویلیمسن کے مطابق برصغیر مغل دور میں صنعتی طور پہ طاقتور تھا اور اس کا صنعتی زوال اٹھارہویں صدی کے آخری نصف میں مغلیہ سلطنت کے زوال کی وجہ سے ہوا جس میں بعد ازاں سب سے بڑا کردار انگریزوں کے قبضے نے ادا کیا۔ مغل سلطنت کے زوال کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہوگئی۔
یہ بات ان اسلام دشمن اور سیکولر مصنفین کے لیے منہ بند کرنے والی ہے جو مغل دور کو برصغیر کی تاریکی اور انگریز دور کو برصغیر کی ترقی کا دور قرار دیتے ہیں۔ سلطنت کے زوال کے بعد بھی مغربی مورخ جیفری جی ویلیمسن کے مطابق برصغیر کپڑے کی صنعت میں برطانیہ کا انیسویں صدی تک مقابلہ کرتا رہا اور اس کو برطانیہ پہ اس سلسلے میں برتری حاصل رہی لیکن بعد ازاں برطانوی صنعت کو فروغ دینے اور برصغیر کو برطانوی صنعت کی منڈی بنانے کے لیے انگریزوں کی طرف سے جان بوجھ کر برصغیر کے تعلیمی اور صنعتی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا۔

تحریر: ڈاکٹر احید حسن

بشکریہ: الحاد ڈاٹ کام

بائیو جلد ہی اپڈیٹ کردینگے
×
بائیو جلد ہی اپڈیٹ کردینگے
Latest Posts
Facebook Comments

تبصرہ کریں

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share