تاریخ عالم

مدارس کی مختصر تاریخ  

مدرسہ اگر اس معنی میں لیا جائے جس کی اپنی مستقل عمارت ہو، اساتذہ اور طلبہ ہوں اور ایک خاص تعلیمی نظام اور منصوبہ بندی کے تحت علوم و فنون کی تدریس ہوتی ہو، تواس طرح کے مدرسہ کا وجود اسلام کے ابتدائی ادوار میں نہیں تھا اور مسجد ہی تمام مذہبی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اور محور تھی۔ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ حصول علم کے طور طریقے بدلنے لگے۔ علم کے حلقے بڑھ گئے، درس و تدریس اور تکرار کا شور پیدا ہوا اور بحث و مناظروں کی صدائے بازگشت گونجنے لگی، چنانچہ ان چیزوں نے مساجد سے مدارس کو الگ کردیا، کیونکہ مساجد میں ادا کی جانے والی عبادات کے لئے سکون و اطمینان کی فضا ضروری تھی۔

مذکورہ بالا تعریف کے مطابق مدرسہ کا وجود اسلام میں سب سے پہلے اہل نیشاپور (ایران) کے ہاں عمل میں آیا جہاں نیشاپور کے علماء نے ”مدرسہ بیہقیہ“ کی بنیاد رکھی تھی۔ نیشاپور میں اس کے علاوہ ایک مدرسہ سلطان محمود عزنوی نے، ایک اس کے بھائی نصر بن سبکتگین نے مدرسہ سعیدیہ کے نام سے قائم کیا تھا اور چوتھا مدرسہ امام ابن فورک (متوفی ۴۰۶ھ) کا وجود میں آیا تھا۔

یہ پانچویں صدی ہجری/ گیارہویں صدی عیسوی کی ابتدا تھی۔ اس زمانے میں ایک طرف کتب خانے منظم شکل میں سامنے آنا شروع ہوگئے تھے تو دوسری طرف مدارس تنظیمی و تعلیمی ڈھانچے سمیت وجود میں آگئے تھے گویا مدارس کا ایک جال پھیل گیا تھا.

بائیو جلد ہی اپڈیٹ کردینگے
×
بائیو جلد ہی اپڈیٹ کردینگے
Latest Posts
Facebook Comments

تبصرہ کریں

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share