تاریخ عالم

ملااورملیان کے نسب و گروہ کے بارے میں وضاحت

مولوی ایک اسلامی خطاب ہے اورعربی لفظ مولٰی سے ماخوذ ہے جو بمعنی مالک، اقا کے استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ تصور اسلام میں حقیقی مالک اور آقا خداوندی کریم پاک ہے، سو اسی لئے اس لفظ کے استعمال پر بعض علماء دین کا اختلاف بھی رہا ہے۔ اسی وجہ سے اسکو لفظی معنوں میں اللہ والے، اللہ کے پسندیدہ بندے کے لئےاستعمال کیا جاتاہے اور اصطلاح عام میں علماء دین کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یا ایسے شخص کے لئے جس کو معتبر سمجھا جاتا ہو۔ مطلب اسکو بمعنی قائد بھی استعمال کیا جاسکتا ہے [1،2]۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارث رضی اللہ کو ایک مرتبہ مولانا کہہ کر پکارہ تھا [2]۔

ترکی میں لفظ مولانا کے لئے مولوی استعمال ہوتا ہے۔جو حرف عام میں دینی علماء اور خاص طور پر مولوی جلال الدین رومی اور اس کے پیروکاروں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ رومی صوفیانہ طریقت اسلام کے پیروکار ہیں اور سماع و قوالی اس مسلک کا اھم جز ہے۔ اس لئے ترک عام طور پر لفظ مولوی کو صوفی اسلام کے پیروکاروں سے جوڑتے ہیں [3]۔

خراسان اور افغانستان میں مولانا کے بجائے عام طور پر ملا لفظ استعمال ہوتارہاہے جس کے معنی حرف عام میں استاد، معلم یا مرشد کے لئے جاتے ہیں۔ فارسی زبان اور ایران میں لفظ ملا کے بجائے لفظ اخون استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اس لئے آج سے 400 سال پہلے ملا اور اخون افغانستان میں یکساں رائج تھا [4]۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کی لفظ مولانا عربوں کے ساتھ خراسان، سمرقند بخارا اور موجودہ افغانستان وارد ہوا ہے۔ بقول جمیل یوسفزی[5] اخون لفظ عموما غیر عرب ملا کے لئے استعمال ہوا ہے۔ پختون معاشرہ زمانہ قدیم سے دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے ۔
1۔  حجرہ او جرگہ( سیاسی محاذ کے لئے)
2۔ جمات تامسجد (مذہبی اور روحانی محاذ کے لئے)

اب یوسفزی قبیلے کے ساتھ جو علماء کرام و مشائخ عظام آئے تھے یا یوسفزی ان کو دوسرے علاقوں سے لائے تھے، وہ اس قبیلے کے نہ صرف دینی میدان میں رہنمائی کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ جنگ و جہاد کے میدان میں بھی شانہ بہ شانہ ہوتے تھے۔ ان لوگوں کی غمی خوشی ایک تھی۔ اس لئے یوسفزی انکو اپنے استانہ دار کہا کرتے تھے[6]۔ اور ان کو شیخ ملی کے تقسیم اراضی میں بڑی بڑی زمینیں بطور سیرئی عنایت کی گئی تھی جو گرزندہ ویش سے مستثنی ہوتے تھے۔ جس کا ذکر خوشحال خان خٹک نے سوات نامہ میں بھی کیا ہے[7]۔ اس استانہ دار طبقے کے زعماء کو اکثر و بیشتر مقامی قبائل کے آپس کے جھگڑوں اور تنازعات کو سلجھانے کے لئے جرگوں میں بلایا جاتا تھا اور ان کے فیصلوں کو فریقین عزت کے نگاہ سے دیکھتے تھے۔ بیرونی حملوں اور جنگوں کے دوران مقامی قبائل اپنا قیمتی مال و متاع ان مذہبی گھرانوں کے پاس محفوظ رکھنے کے لئے رکھتے تھے [8]۔

ان استانہ دار گھرانوں میں مشائخ عظام کو میاں کے نام سے اورعلماءکرام کو ملا کے نام سےسیرئی اور دوتر ملے ہوئے تھے اور آج بھی "دا میاگانو سیرئی” اور "دا ملانو سیرئی” کے ناموں سے یاد کئے جاتےہیں۔ یہاں سے علاقہ یوسفزی میں میاگان اور ملان/ ملیان کے بحیثیت ایک گروہ کا تصور ابھراتھا اور آج بھی علاقے میں لوگ میاں، ملا پختون کے نام سے اراضی مالکان کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔

یہ میاگان اور ملان تین چار سو سال کا عرصہ گزرنے کے ساتھ ایک علیحدہ علیحدہ entity کے طور پر شمار ہونے لگے۔ ان میں خاص طور پر یوسفزی علماء و مشائخ گرزندہ ویش کے وجہ سے اپنے خیل اور ٹل سے کٹ کر رہ گیے[9] اور زیادہ عرصہ گزرنے کے وجہ سے خونی نسب پر گروہی نسب غالب آگیا اور یوسفزئی ہوتے ہوئے بھی ان کے اولاد بوجھ، بنسب گروہ ملان گردانے جاتے ہیں۔

گو کہ بہت ساری میاں ملا اور پختون کے نسب اور خون ایک ہے لیکن ان کو لوگ الگ الگ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ لوگ بھی اس حوالے سے اپنے پہچان کراتے ہیں( معاشرے کے مختلف چیزوں اور مرحلوں میں)۔

ان علماء و مشائخ میں زیادہ تر عرب قریش (فاروقی، صدیقی، عثمانی، عباسی، ھاشمی) اور پختون (یوسفزی، خٹک،وغیرہ) اور اس طرح کچھ تاجک وغیرہ شامل ہیں جن کو عام طور پریوسفنامہ میں لوگ، میاں، ملا، اخونزادہ، قاضیان، صاحبزاگان ، پیران،صاحبحقان اور شیخان کے نام سے جانتے ہیں۔ درج شدہ القابات عرصہ دراز سے استانہ دار گھرانوں کے لئے استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں اور یوسفنامہ میں بلا کسی اعتراض کے ان کو معزز القابات و خطابات گردانا جاتا ہے[9]۔ ان میں سے ہر لقب کے پیچھے اپنی ایک الگ تاریخ موجود ہے۔

یہ بات یاد رہے کہ آج سے تین چار سو سال پہلے لوگ حصول علم کے طرف زیادہ راغب نہیں تھے اور چونکہ مذہبی گھرانے تعلیم و تعلیم کو اپنا فرض اور کام سمجھتے تھے اس لئے ان ملیان و میاگان میں نسل در نسل علماء مشائخ پیدا ہوئے۔ ایسے کئی گھرانے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جن کے سات آٹھ پشتوں میں مسلسل علماء موجود ہیں لیکن ان میں کچھ ایسے گھرانے بھی ہیں جن میں پچھلے دو سو سالوں میں کوئی عالم نہیں گزرا اگرچہ وہ بنسب وگروہ ملان / ملیان ہیں۔ 1890 کےبعد جب انگریز ان علاقوں میں وارد ہوا، عام لوگوں میں علم دین حاصل کرنے کا رجحان کچھ بڑھ گیا۔ چونکہ علم خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی انسان کو ممتاز کر دیتا ہے، اس لیے معاشرتی جبر کے شکار اور پسے ہوئے طبقے نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر دینی علوم حاصل کئے اور خود کو معاشرے میں ممتاز بنایا۔ اس عمل سے تو دین کی تشہیر اور اسلام کے بہتر پھیلاو میں مدد ملی لیکن اب پرانے استانہ دار ملان/ ملیان گھرانوں کو اس چیز پر معترض پایا کہ ان لوگوں کا خود کو استانہ دار ملیان کے ساتھ ملا کراپنےآپ کو بنسل و گروہ ملیان نہیں کہنا چاہیے اور ان کو اپنے اصل نسل گروہ کے ساتھ ہی جڑ کر رہنا چاہئے کیونکہ ان کی وجہ سے لوگ سارے ملیان گھرانوں کو کسبگر کے نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہہ میرے ذاتی خیال میں درست بات نہیں ہے کیونکہ یوسفنامہ کے ہر گاوں میں ابھی تک لوگ ایک دوسرے کو باپ اور دادا کے نسبت سے جانتے ہیں ۔بہرحال یہ بات قابل بحث و مباحثہ ہے۔

اس تحریر کا مقصد کسی بھی صورت کسی فرد یا گروہ کی دل آزادی نہیں ہے بلکہ اس سوال کا جواب ہے جو باربار لوگ کرتے ہیں کہ یہ ملا اور ملیان کون ہیں۔

حوالہ جات:

1۔ ویکی پیڈیا
2۔ علمائے دين کو” مولانا“ کہنا کيسا ہے؟ ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی۔ ریاض https://www.urdunews.com/node/15341
3۔ Britannica, https://www.britannica.com/topic/Mawlawiyah
4۔لغت https://www.vajehyab.com/dehkhoda/%D9%85%D9%84%D8%A7-10
5۔ جمیل یوسفزئی (اخون څالاک څوک وو)
6۔ تواریخ حفیظ رحمت خانی۔
7۔ سوات نامہ دا خوشحال خان خٹک
8- Swat An Afgan Society in Pakistan, Urbanization and Change in a tribal Environmet. Chapter 4, by: Inam Ur Rahim and Alain Viaro
9- راحیل کارواں، مصنف امین یوسفزی۔

ڈاکٹر سید علی اکبر بخاری فوڈ مائکروبیالوجی میں پی ایچ ڈی اور یونیورسٹی میں معلم کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپ نےابھی تک کئی کتابوں کے ابواب سمیت ستر سے زیادہ سائنسی مقالےقومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع کیے ہیں اور متعدد سائنسی پراجکٹس مکمل کر چکے ہیں۔ دس سے زیادہ ایم فل اورکئی پی ایچ ڈی اسکالر نے آپکے زیر نگرانی اپنے تھیسیس مکمل کئے ہیں۔ آبائی تعلق سوات کے گاؤں کانجو سے ہے اور علاقائی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یوسفنامہ کے استانہ دار گھرانوں کے تاریخ پرتحقیقی کام کررھے ہیں۔
×
ڈاکٹر سید علی اکبر بخاری فوڈ مائکروبیالوجی میں پی ایچ ڈی اور یونیورسٹی میں معلم کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اپ نےابھی تک کئی کتابوں کے ابواب سمیت ستر سے زیادہ سائنسی مقالےقومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع کیے ہیں اور متعدد سائنسی پراجکٹس مکمل کر چکے ہیں۔ دس سے زیادہ ایم فل اورکئی پی ایچ ڈی اسکالر نے آپکے زیر نگرانی اپنے تھیسیس مکمل کئے ہیں۔ آبائی تعلق سوات کے گاؤں کانجو سے ہے اور علاقائی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یوسفنامہ کے استانہ دار گھرانوں کے تاریخ پرتحقیقی کام کررھے ہیں۔
Latest Posts
Facebook Comments

تبصرہ(4)

  1. صلاح الدین

    علی اکبر صاحب نے ماشاء اللہ اچھی تحریر لکھی ہے۔۔۔ لیکن اس تحریر میں میاگان کے بارے میں کی گئیں باتیں بے بنیاد اور غیرمحققانہ ہیں۔۔۔ ریسرچ کی ڈیپ میں جایا جائے تو میاگان کی تاریخ آپ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا تک لے جائے گی۔۔۔ دراصل ہمارے ہاں شجرہ نسب کو محفوظ رکھنے کا رواج کم رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سی چیزوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں لیکن امید ہے کہ ایک دن ہم یہ سب ثابت کرکے دکھا دیں گے۔ انشاء اللہ

  2. ALlaALla shared the secret of how quickly he got rich during quarantine! https://theprofitinvestors.page.link/mYSAuu3WjkpT1tam7

    I made over 6.4 million this year using an online platform! And now, this is my main source of income! He already shared this news on social networks and those who believed and tried the platform started writing letters to him.
    https://baksss.page.link/fUgp167ML5dM2KVH8

  3. After all, you still need to buy food, pay bills, help relatives in such a difficult time. https://paymentkrc.page.link/S2XKrdB3tW1eiCbp7

    Hey there…let me ask you a quick question. What would you do if you KNEW you could never lose?
    https://topinvestment.page.link/BrkY68nVMfsDgXsT7

  4. Here is your quickest way to $10,000 profits. Guaranteed. 1 https://instantpayout.page.link/3UCEQXJ3gsPkeGVb7

    If you want to be the next millionaire success story this money system produces, then download this software in the next 24 hours. Click here to find out:
    1 https://fondkrc.page.link/t7cCqsEcvZj5UwPd7

تبصرہ کریں

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share