تاریخ سوات

سوات میوزیم کی مختصر تاریخ

پہلی دفعہ سوات میں آثار قدیمہ پر کام “سر اورل سٹین” نے 1927ء میں شروع کیا۔ اس کے بعد برٹش میوزیم کے دو اہل کار E Barger اور P Wright آئے۔ پروفیسر ٹوچی 1955ء میں سوات آئے اور باقاعدہ طور پر آثار قدیمہ پر کام شروع کیا۔ اگر چہ سوات ایک خود مختار ریاست تھی لیکن 1954ء کے ایک معاہدے کے تحت بعض امور کا اختیار پاکستان کو دیا گیا تھا۔ ان میں آثار قدیمہ بھی شامل تھا۔ پاکستان کی مرکزی حکومت کے شعبہ آثار قدیمہ نے ’’آثار قدیمہ کے تحفظ کا قانون مجریہ 1904ء‘‘ نافذ کیا تھا۔ گیارہ مارچ 1956ء کو سوات میں باقاعدہ طور پر اس ایکٹ کے نفاذ اور ایک میوزیم بنانے کے حوالے سے والئی سوات اور پی اے ملاکنڈ شیر افضل خان کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی اور اس کے بعد پی اے ملاکنڈ نے پاکستان کے آرکیالوجی کے ڈائریکٹر Mr Raoul Curiel کو خط لکھا اور بتایا کہ والئی سوات کو Ancient Monuments Preservation Act 1904 نافذ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس کے بعد جہانزیب کالج کا ایک کمرہ بہ طور میوزیم استعمال کیا جانے لگا اور ایک پروفیسر کو Curator کی ذمے داری دی گئی۔ اس وقت ’’ٹوچی‘‘ نے سوات میں آثار قدیمہ پر کام جاری رکھا اور نوادرات کی تعداد بڑھ گئی۔ اس لیے والئی سوات نے اس کے لیے ایک علاحدہ عمارت تعمیر کرنے کے لیے پولی ٹیکل ایجنٹ ملاکنڈ کو 1958ء میں ایک خط لکھا۔ عمارت کا پلان ڈاکٹر ٹوچی نے بھیجا۔ اسی طرح سوات میوزیم کی پہلی ڈرائنگ اٹلی کے آرکی ٹیکٹ Vittorio Caroli نے تیار کی۔ برطانیہ کے میوزیم کے اہل کار E Barger اور P Wright نے لکھا ہے کہ سوات میوزیم کا سہرا ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودود کے سر ہے کہ سب سے پہلے انھیں میوزیم بنانے کا خیال آیا تھا۔

سوات میوزیم کو 262آئٹمز والئی سوات نے دیے تھے۔ سوات میوزیم کے پہلے Curator کا نام عنایت الرحمان ہے۔ 2005ء کے زلزلہ سے میوزیم کو کافی نقصان پہنچا تھا اور اس طرح سوات میں کشیدگی کے دوران میں 2009ء میں میوزیم کے قریب ایک دھماکے سے بھی میوزیم کی عمارت کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ سوات کے کشیدہ حالات اور پھر میوزیم کی تعمیر نو کی وجہ سے یہ 2008ء سے اب تک بند ہے۔

اٹالین آرکیالوجیکل مشن نے پاکستان کے آثار قدیمہ کے محکمہ کے ساتھ مل کر سات لاکھ یورو کی لاگت سے (فروری 2011ء کے بعد) تقریباً بیس مہینوں میں اس کی تعمیر نو مکمل کی۔ پشاور یونی ورسٹی کے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی ڈی پارٹمنٹ نے میوزیم کی تعمیر اور ماسٹر پلان بنانے میں معاونت کی۔ سوات میوزیم میں گندھارا تہذیب، بدھ مت، انڈوگریک، ہندو شاہی اور سوات میں ابتدائی اسلامی دور کے آثار اور نوادرات موجود ہیں۔ میوزیم کی ایک گیلری میں سوات کی ثقافت اور دوسری میں سوات کے متعلق قدیم پینٹنگز رکھی گئی ہیں۔ طلبہ، محققین اور سیاحوں کی آمد سے سوات کی معیشت پر اس میوزیم کی وجہ سے اچھے اثرات پڑیں گے۔

ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا تعلق سوات سے ہے ۔ وہ ایریا سٹڈی سنٹر (سنٹرل ایشیا) پشاور یونورسٹی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں ۔ اپ نے دو ہزار گیارہ میں شعبہ پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد سے ایم فل کیا ہے ۔ ایم فل میں اپ نے اپنا مقالہ Beginning and Evolution of Pashto Literature in Swat State: 1915-1969 کے عنوان سے لکھا تھا ۔ اپ نے دو ہزار سترہ میں اسی ڈیپارٹمنٹ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹریت میں اپ نے "سوات میں پشتو ادب کی تہذیبی اور ثقافتی مطالعہ: ابتدا تا 2012” کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھاتھا۔ اسی دوران اپ نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی طرف سے ہومبولڈ یونیورسٹی برلن جرمنی میں بھی اپنی تحقیق کے سلسلے میں کچھ وقت گزارا۔ 2019 میں جرمن ادارے DAAD کی طرف سے اپ کو دوبارہ تین مہینوں کا ایک تحقیقی منصوبہ دیا گیا جس کو اپ نے بھی ہومبولڈ یونیورسٹی میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔2004 سے 2010 تک اپ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا میں درس و تدریس سے منسلک رہے ۔ 2010 سے 2018 تک اپ نے محکمہ اعلی تعلیم خیبر پختونخوا میں بحیثیت لیکچرار، شعبہ پشتو، مختلف کالجوں میں اپنی فرائض سر انجام دیں ۔ مارچ 2018 میں اپ کا انتخاب بحیثیت ریسرچ ایسوسی ایٹ ایریا سٹڈی سنٹر (سنٹرل ایشیا) پشاور یونیورسٹی میں ہوا اور وہ تا حال وہاں پر تحقیق اور تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کے دلچسپی کے موضوعات میں سوات کی پشتو ادب اور ثقافت، فوکلوشامل ہیں۔ پاکستانی زبانوں کے ادب کے علاوہ وسطی ایشیائی ادبیات،عمومی لسنیات اور افغان سٹڈیزمیں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
×
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا تعلق سوات سے ہے ۔ وہ ایریا سٹڈی سنٹر (سنٹرل ایشیا) پشاور یونورسٹی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں ۔ اپ نے دو ہزار گیارہ میں شعبہ پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد سے ایم فل کیا ہے ۔ ایم فل میں اپ نے اپنا مقالہ Beginning and Evolution of Pashto Literature in Swat State: 1915-1969 کے عنوان سے لکھا تھا ۔ اپ نے دو ہزار سترہ میں اسی ڈیپارٹمنٹ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹریت میں اپ نے "سوات میں پشتو ادب کی تہذیبی اور ثقافتی مطالعہ: ابتدا تا 2012” کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھاتھا۔ اسی دوران اپ نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی طرف سے ہومبولڈ یونیورسٹی برلن جرمنی میں بھی اپنی تحقیق کے سلسلے میں کچھ وقت گزارا۔ 2019 میں جرمن ادارے DAAD کی طرف سے اپ کو دوبارہ تین مہینوں کا ایک تحقیقی منصوبہ دیا گیا جس کو اپ نے بھی ہومبولڈ یونیورسٹی میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔2004 سے 2010 تک اپ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا میں درس و تدریس سے منسلک رہے ۔ 2010 سے 2018 تک اپ نے محکمہ اعلی تعلیم خیبر پختونخوا میں بحیثیت لیکچرار، شعبہ پشتو، مختلف کالجوں میں اپنی فرائض سر انجام دیں ۔ مارچ 2018 میں اپ کا انتخاب بحیثیت ریسرچ ایسوسی ایٹ ایریا سٹڈی سنٹر (سنٹرل ایشیا) پشاور یونیورسٹی میں ہوا اور وہ تا حال وہاں پر تحقیق اور تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کے دلچسپی کے موضوعات میں سوات کی پشتو ادب اور ثقافت، فوکلوشامل ہیں۔ پاکستانی زبانوں کے ادب کے علاوہ وسطی ایشیائی ادبیات،عمومی لسنیات اور افغان سٹڈیزمیں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
Latest Posts
Facebook Comments

تبصرہ کریں

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share