تاریخ سوات

ملم جبہ، قدیم اُدھیانہ کا مذہبی و تجارتی راستہ

ویسے تو وادئی سوات کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، مگر ساتھ ساتھ یہ جنت نظیر وادی اپنے دامن میں ہزاروں سال کی تاریخ بھی سموئے ہوئی ہے۔ جہاں اب بھی گندھارا تہذیب کے ہزاروں کھنڈرات اور ان گنت آثار جا بہ جا بکھرے پڑے ہیں۔

سوات میں دارد، بدھ مت، اینڈو گریک، ہندو شاہی اور مسلمان ادوار کے آثار اس علاقہ کی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ تاریخی و تحقیقی کتب سے واضح نشانیاں ملتی ہیں کہ ادھیانہ قدیم دور میں وسطٰی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان سیکڑوں سال تک ایک اہم تجارتی، ثقافتی اور مذہبی پل کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ تحقیق سے یہ بات عیاں ہے کہ موضع ملم جبہ جو کہ شانگلہ سے ہوتے ہوئے کوہستان، گلگت اور پھر چین کے راستے پورے وسطی ایشیا کو ملاتا تھا۔ یہی وہ راستہ تھا جس پر تجارت کے علاوہ مذہبی اور ثقافتی دورے ہوا کرتے تھے۔

ملم جبہ، سوات میں قدیم دور کے کھنڈرات اور آثار کے لیے مشہور علاقوں میں اہمیت کے لحاظ سے کسی بھی دوسرے علاقے سے کم نہیں۔ کیوں کہ یہاں پر بدھ مت اور اس سے پہلے ادوار کی بصری تصویریت (جس میں پتھروں پر کندہ کاری اور بدھا کے مجسموں کے علاوہ ڈھیر سارے نشانات موجود ہیں) کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ تاریخی مطالعہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملم جبہ روز اول سے ملکوتی حسن سے مالا مال ہے۔ یہاں راستوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا، جو سوات کے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے ملاتا تھا۔ یہ قدیم تجارتی راستہ منگلور سالنڈہ سے ہوتے ہوئے، جہان آباد، سیر تلیگرام، کولکارین، کشورہ، اشاڑے، بالاکوٹ اور سپینو اوبو کو علاقہ غور بند کے بازار کوٹ نامی جگہ سے ملاتا تھا۔

مشہور اطالوی آرکیالوجسٹ ’’ڈاکٹر لوکا ماریا اولیوری‘‘ کے مطابق ایک راستہ سپینو اوبو سے شروع ہوتا تھا، جو ملک خیل، کوٹکے، مانڑئے سر،بیلے بابا اور سپین پل سے ہوتا ہوا بشام سے جا ملتا تھا۔ اس طرح ابا سندھ کوہستان اور سوات کے درمیان یہی راستہ تجارت اور دوسری سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

مشہور انگریز محقق، تاریخ دان اور آرکیا لوجسٹ ’’سر اورل اسٹائین‘‘ 1927ء میں جب اپنے دوسرے دورہ پر شانگلہ میں آرکیالوجی کے آثار کی کھوج اور دریافت میں مصروف تھا، تو ان دنوں اس نے ملم جبہ کے راستہ سے ہوتے ہوئے اباسندھ کوہستان کا ایک قافلہ دیکھا، جو سوات سے اشیائے ضروریہ لے کر واپس جا رہا تھا۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ یہی وہ راستہ تھا، جو قرونِ وسطیٰ اور قدیم ادوار میں وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت و ثقافت کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور یہی وہ راستہ تھا، جو کہ وسطی ایشیا سے بدھ مت کے زائرین قدیم ادھیانہ آنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

یہ بات بھی وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ملم جبہ کا یہ اہم تاریخی راستہ سواتیوں نے سولہویں صدی میں یوسف زئیوں سے پسپا ہوکر استعمال کیا ہوگا۔ اگرچہ ملم جبہ کے تاریخی راستوں نے قدیم دور میں گندھارا اور وسطی ایشیا میں بدھ مت کے پھیلاؤ اور تجارت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تذویراتی اہمیت اب بھی اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب سوات میں طالبان کے خلاف پاک فوج نے آپریشن شروع کیا اورکرفیو کی وجہ سے یہاں کے جدید داخلی راستے بند ہوگئے، تو یہاں کے لوگوں نے ملم جبہ ہی کے قدیم راستے استعمال کرتے ہوئے یہاں سے شانگلہ یا ضلع بونیر کے راستے پشاور اور ملحقہ علاقوں میں ہجرت کی تھی اور یہی وہ تاریخی راستہ تھا جس پر لوگ وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے جب سوات میں داخل ہوتے تھے، تو یہاں کے ملکوتی حسن اور دل فریب موسم کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ سواستو یعنی دریائے سوات کے دونوں اطراف میں جہاں ایک طرف سیکڑوں اسٹوپوں سے رات کے وقت ہوائیں ’’جرس‘‘ (واضح رہے کہ قدیم ادوار میں اسٹوپوں میں جرس آویزاں ہوا کرتے تھے) کی آوازوں سے دل فریب موسیقی پیدا کرتی تھیں، تو دوسری طرف یہاں موجود رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو، فضاؤں کو معطر کرتی تھی۔ سکون، امن اور خوش حالی اس علاقہ کو برصغیر کے دوسرے علاقوں سے ممتاز کرتی تھی۔

وادئی ملم جبہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ گندھارا کا ایک اہم علاقہ تھا۔ یہاں کے بدھ مت کھنڈرات میں چھے خانقاہوں اور دو اسٹوپوں کے آثار ملے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں پتھروں اور چٹانوں پر کندہ کاری اور مجسموں کے آثار بھی ملتے ہیں۔ آرکیالوجسٹس کے مطابق یہاں کے آثار تیسری صدی عیسوی سے لے کر آٹھویں صدی عیسو ی تک کے ہیں۔ اس علاقہ میں بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ بھی اسی وادی میں جہاں آباد کے علاقہ میں ہے، جو تاریخی لحاظ سے منفر د مقام رکھتا ہے۔

بشکریہ: لفظونہ ڈاٹ کام

جناب فضل خالق ایک صحافی اور مصنف ہیں جنھوں نے اپنی تحریروں اور سیمیناروں کے ذریعہ پاکستانی ثقافتی ورثے کو تباہی اور دہشت گردی سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے انگریزی اخبار ڈان کے نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے عسکریت پسندی ، ثقافتی ورثے ، شاعری اور سفرنامے جیسے مختلف موضوعات پر نو کتابیں تصنیف کیں۔ وہ بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل اسکالر ہیں اور انھیں 2012, 2013اور 2016 میں اگاہی ایوارڈ سمیت 2014 میں سنگاپور کے ایشیاء جرنلزم فیلوشپ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ وہ مارننگ پوسٹ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ صحافیوں کے لئے2018یوایس پاکستان پروفیشنل پارٹنرشپ پروگرام کا فیلو بھی ہیں ۔
×
جناب فضل خالق ایک صحافی اور مصنف ہیں جنھوں نے اپنی تحریروں اور سیمیناروں کے ذریعہ پاکستانی ثقافتی ورثے کو تباہی اور دہشت گردی سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے انگریزی اخبار ڈان کے نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے عسکریت پسندی ، ثقافتی ورثے ، شاعری اور سفرنامے جیسے مختلف موضوعات پر نو کتابیں تصنیف کیں۔ وہ بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل اسکالر ہیں اور انھیں 2012, 2013اور 2016 میں اگاہی ایوارڈ سمیت 2014 میں سنگاپور کے ایشیاء جرنلزم فیلوشپ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ وہ مارننگ پوسٹ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ صحافیوں کے لئے2018یوایس پاکستان پروفیشنل پارٹنرشپ پروگرام کا فیلو بھی ہیں ۔
Facebook Comments

تبصرہ کریں

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share